خبر اور تجزیہ

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے نام ایک اور کھلا خط

آپ کو یاد  دلاتا چلوں کہ آپ نے نواز دور میں قومی اسمبلی کے فلور پر  سوال اٹھایا تھا کہ "آج عطاء اللہ شاہ بخاری کے پیروکار کہاں ہیں

السلام علی من اتبع الہدی

جناب شیخ !

ہم جو آپ کے ہم عمر یا آٹھ دس  سال آپ سے چھوٹے ہیں، آپ کو بتانے کی جسارت کر رہے ہیں کہ آپ اور آپ کے معاصرین کی حیات مستعار کا آفتاب لب بام ہے اور غروب ہوا ہی چاہتا ہے

جانے کب دے دے صدا کوئی حریم- ناز سے

بزم والو ! گوش بر آواز رہنا چاہیے

آپ صحافت کے بطل- جلیل اور مجاہد ختم نبوت حضرت-آغا شورش کاشمیری رح کے ارادت مند ہونے کے دعویدار ہیں۔ چلیں، اسی تناظر میں اس مکتوب کا آغاز  آغا صاحب ہی کے اس مصرع سے کرتے ہیں

وزارتیں تو کھلونا ہیں ٹوٹ جائیں گی

آپ کو باور کرانا ہے کہ درانہ وار اس حد تک آگے نہ جائیں کہ اللہ کا غضب آپ کو اچانک یوں آن لے کہ آپ حیران و ششدر رہ جائیں۔ آپ پناہ طلب کریں اور آپ کو اس وسیع و عریض دنیا کے کسی بھی کونے کھدرے میں  پناہ نہ ملے۔ آپ نگاہ-بے بسی اٹھا کر چار سو دیکھیں اور آپ کو کہیں کوئی جائے پناہ، گوشہ ء عافیت، سائباں اور دار الامان دکھائی نہ دے۔ شیخ جی! آپ اپنی “فارغ البالی” کو تو وگ سے چھپاسکتے ہو لیکن حقائق تو ارباب-نظر کی چشم-حق جو سے مخفی نہیں۔ کاسمیٹک جوانی ہو یا اوریجنل شباب، انجام کار  وقت کی بارشیں دونوں کا رنگ روپ پھیکا کر کے رکھ دیتی ہیں۔ چاردن کے عروج، اوج اور “خدائی” پر اتنا نہ اتراو۔۔۔ اترانا یا اٹھلانا کس بات پر؟۔۔۔کس برتے پر یہ تتا پانی؟۔۔۔ مانگے تانگے کی وزارت پر۔۔۔ اس کی اصلیت پاکستانی عوام جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں آپ پیر-فرتوت بن چکے ہیں۔ ان دنوں آپ ستر پچہتر کے پیٹے میں تو ہوں گے یا یہ ریڈ لائن بھی کراس کرچکے ہوں گے۔ آگے ڈینجر زون ہے۔ آپ کا رواں رواں بہ زبان-حال دہائی دے رہا ہے

مضمحل ہوگئے قوی غالب

وہ عناصر میں اعتدال کہاں

آپ کے حالیہ بیانات سے مترشح ہوتا ہے کہ ضعیف العمری اور “سال و مال خوردگی” آپ کے حافظے پر بھی منفی اثرات مرتب کر چکی ہے۔ نتیجتا آپ بھول گئے کہ سدا اقتدار سوہنے  اللہ سائیں ہی کا ہے ۔ کل من علیہا فان  و یبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام

سروری زیبا فقط اسی ذات-بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی باقی بتان-آذری

شیخ جی !

اگر آپ بھول گئے، آپ کا حافظہ کوتاہی کر رہا اور یاد داشت لغزش کھا رہی ہے تو آپ کو یاد  دلاتا چلوں کہ آپ نے نواز دور میں قومی اسمبلی کے فلور پر  سوال اٹھایا تھا کہ “آج عطاء اللہ شاہ بخاری کے پیروکار کہاں ہیں؟ “

آئیے شیخ صاحب! اگر آپ وزارت کے نشے میں دھت ہو کر توازن اور بصارت کھو چکے اور آپ کو کچھ بھی دکھائی اور سجھائی  نہیں دے رہا تو میں آپ کی انگلی پکڑ کر آپ  کو بتاتا اور دکھاتا چلوں کہ آج ان گنت عطاء اللہ شاہ بخاری حافظ سعد حسین رضوی اور اس کی تحریک کے جاں نثار کارکنوں کی شکل میں پاکستان کے ہر گلی کوچے اور شاہراہ پر آپ کی وزارت داخلہ کے ماتحت حکومتی مشینری کے جبر و تشدد کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں۔ وہ آپ کی وزارت کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی پاکستان میڈ دین دوست جماعت کے کارکن ہیں۔ وہ دو قومی نظریہ کے محافظ ہیں۔ وہ مصور پاکستان حکیم الامت علامہ اقبال کی فکر کے وارث ہیں۔ وہ غازی علم الدین شہید کا مقدمہ لڑنے کے لیے لاہور تشریف لانے والے قائد اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کے شارح ہیں۔

وہ پاکستان، بانی-پاکستان اور شہریان-ریاست-پاکستان سے محبت کے داعی ہیں۔ وہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور مسئلہ-کشمیر کے قومی و بین الاقوامی سطح پر وکیل ہیں۔ اتنی خوبیوں کی حامل جماعت کے کارکنوں کو میدان سے کون پسپا کر سکتا ہے۔ وہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم، منظور پشین کی پی ٹی ایم اور را میڈ بی ایل اے، بی ایل ایف اور ٹی ٹی پی کے تخریب کار نہیں۔۔۔ آپ کی پابندی کے نوٹیفیکیشن  کے باوجود وہ پسپا نہیں ہوئے۔ انہوں نے 18 اور 19 اپریل کو جنرل ڈائر کی تربیت یافتہ  پنجاب پولیس کی بندوقوں کی نالیوں سے شعلے اگلتی بارودی گولیوں کو اپنی روشن  پیشانیوں اور کشادہ سینوں کے دامن  میں ‘لبیک لبیک یا رسول اللہ لبیک’ کا نعرہ لگاتے ہوئے پھول سمجھ کر جگہ دی۔ ان میں سے ہزاروں آج بھی زخمی حالت میں بلاتوقف ‘تاجدار ختم نبوت: زندہ باد،  زندہ باد، زندہ باد!!!’۔۔۔’ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ ۔۔۔دستور-ریاست کیا ہوگآ، محمد الرسول اللہ’  کے نعرے لگا رہے ہیں۔

 ظلم کی انتہا یہ کہ آپ بھاشن دے رہے ہیں کہ تحریک لبیک پاکستان پر غیر قانونی ، غیر آئینی، غیر انسانی پابندی کے نوٹیفیکیشن  کے بعد اس کے کارکنوں کو سختی سے کچل دیا جائے گا۔۔۔ اور کتنا کچلو گے جناب شیخ؟۔۔۔تحریک لبیک پاکستان سیکڑوں کارکنوں کی شہادت اور ہزاروں کارکنوں کی اسارت  کے بعد اب شعلہ ء جوالہ سے خورشید- قیامت بن چکی ہے۔ قربانیاں دینے والی تحریکوں کی فطرت میں قدرت نے لچک رکھی ہے، اتنا ہی یہ ابھرتی ہیں جتنا ان کو دبایا جاتا ہے۔ بھلا تنکے بھی سیل-رواں کا راستہ روک سکے ہیں! تحریک لبیک پاکستان کا جواں سال اور جواں ہمت قائد پابندیوں کی سلاخوں اور جکڑ بندیوں کی باڑ کے پیچھے سے “ٹلیوں”۔۔۔”زٹلیوں “۔۔۔شیریں مزاریوں۔۔۔فواد چوہدری ایسے مداریوں کو للکار رہا ہے

جو چاہے سزا دے لو، تم اور بھی کھل کھیلو

پر ہم سے قسم لے لو، کی ہو جو شکایت بھی

وہ جانتا ہے اور بہ خوبی جانتا ہے کہ وہ جادہء حق کا راہی ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود وہ اپنے ہر کارکن کو ایک ہی پیغام دے رہا ہے

زخم پے زخم کھا کے جی، اپنے لہو کے گھونٹ پی

آہ نہ کر لبوں کو سی، عشق ہے یہ دل لگی نہیں

یہ کوئی گل و بلبل، شمع و پروانہ ، چاند اور چکور ایسا شاعرانہ اور تخیلاتی عشق نہیں، یہ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ بادہ ء عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم  کے دیوانوں کی شیریں سرمستی و دیوانگی اور تند و تیز خمار کو پابندیوں، نظر بندیوں اور جکڑ بندیوں کی کوئی بھی ترشی اتار نہیں سکتی۔ تمہاری حکومت نے انہیں طرح طرح کے لالچ دیے۔۔۔نوٹوں سے بھری بوریوں اور بریف کیسوں کی پیش کش کی۔۔۔اس حکومت نے تھپکیوں اور دھمکیوں سے انہیں ہر طرح سے ورغلانے اور ڈرانے کی آخری حد تک کوشش کی لیکن اس تحریک کی قیادت اور ہر کارکن نے اس کے دام-ہم رنگ-زمیں کا اسیر بننے سے یہ کہہ کر انکار کردیا

پاوں کی ٹھوکر پہ رکھتا ہوں جلال-خسرواں

میرے مولا، میرے آقا رحمت اللعالمین

 میں آپ کو بتاتا چلوں کہ آپ کی بڑھکوں، گیدڑ بھبھکیوں اور دھمکیوں کو تحریک لبیک پاکستان کے کارکن جوتے کی نوک پر رکھ رہے ہیں۔ ان کفن بر دوش اور سر بہ کف دیوانوں کے ہونٹوں پر آج بھی یہ ترانہ ء مستانہ ہے

ہری ہے شاخ تمنا ابھی جلی تو نہیں

دبی ہے عشق کی آگ مگر بجھی تو نہیں

جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی

کٹی ہے برسر میداں مگر جھکی تو نہیں

اے شیخ-دربار و سرکار! یہ امر ذہن نشیں رکھیں کہ آپ اور آپ کی سیا ست کا نام و نشاں مٹ جائے گا، آپ تاریخ کے گم گشتہ اوراق کی دھندلی تحریر بن جائیں گے لیکن فنا فی الرسول اور باقی بااللہ امام العاشقین علامہ خادم حسین رضوی کی جماعت کی مقبولیت اور محبوبیت کا پرچم شام ابد تک فضاؤں میں لہلہاتا رہے گا۔

شیخ صاحب ! میری سنو جو گوش-نصیحت نیوش ہو  عشروں قبل بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان انتباہ کرتے ہوئے اپنے آہنی قلم کی نوک سے تاریخ کے سینے پر آپ ایسے اقتدار پرستوں کے لیے یہ پیغام رقم کر گئے تھے:

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

میری محکم اور صائب رائے تو یہی ہے کہ اگر عمران اور اس کے حواریوں نے اپنے فسطائی اقدام سے رجوع نہ کیا تو ان میں سے ہر ایک کے لیے اپنے قومی و صوبائی حلقوں میں جانا مشکل ہو جائے گا۔۔۔یہ حلقے ان کے لیےعلاقہ ہائے ممنوعہ بن جائیں گے۔آپ نے دیکھا نہیں کہ چند روز قبل پیر نورالحق قادری کے ساتھ اس کے حلقے میں کیا ہوا، بلٹ پروف گاڑی میں اسے منہ چھپا اور دم دبا کر بھاگنا پڑا۔۔۔آپ نے سنا نہیں کہ ہفتہ عشرہ قبل کابینہ کے اجلاس میں عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے ایک وفاقی وزیر علی محمدخان نے کہا تھا کہ “شیخ رشید کے نوٹیفیکیشن نے ہم اراکین پارلیمان کا اپنے حلقوں میں جانا دوبھر کر دیا ہے، ہم اپنے حلقہ ہائے نیابت کے عوام کو کیا منہ دکھائیں گے”۔۔۔کیا آپ کو یاد نہیں کہ پولیس، ایلیٹ فورس اور پرائیویٹ مسلح دستوں کے سیکڑوں اہلکاروں کے حصار کو توڑ کر تمہارے اپنے حلقہ کے غصہ میں بپھرے عوام نے لال حویلی کا کس طرح محاصرہ کیا تھا؟۔۔۔

اب بھی وقت ہے کہ آپ آبرو مندی سے اپنے فسطائی نوٹیفیکیشن کو واپس لے لیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ  خود آگے بڑھیں اور بہ حیثیت وفاقی وزیر فرانس کے سفیر کی ملک بدری کی قرار داد حکومت کی جانب سے حسب معاہدہ قومی اسمبلی میں پیش کریں۔ ہو سکتا ہے یہ قرارداد ہی داور محشر اور شافع محشر کے سامنے آپ کے لیے پروانہ ء شفاعت بن جائے۔

بہ صورت دیگر وہ وقت آیا ہی چاہتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کو بامر مجبوری دست بستہ قوم سے معافی مانگ کر تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کا نوٹیفیکیشن واپس لینا پڑے گا۔۔۔ہر کہ و مہ آگاہ رہے کہ  مکافات-عمل کا چیتا لیل و نہار کی سیاہ و سفید چٹان کی اوٹ سے ہر بد عہد کو گھور رہا ہے، اس سے قبل کہ وہ زقند بھرے اور برق-بے اماں کی طرح جھپٹ پڑے۔۔۔یہ معاہدہ شکن توبہ کرلیں۔

مانو، نہ مانو جان جہاں اختیار ہے

ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

حافظ شفیق الرحمن کالم نگار

اسیر تحریک ختم نبوت 1974


پاکستان ڈیفنس انڈسٹری کے بارے یہ مضمون بھی پڑھیں

پی کے ۔ 15، جے ایف ۔ 17 اور الخالد سے ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹر پراجیکٹ عزم تک

تازہ ترین کالم

احتجاج کا گورکھ دہندہ ! کیا جمہوری نظام میں پاکستان کی بقا ہے ؟

احتجاج ایک آرٹ ہے اور یہ آرٹ جمہوریت کی ناجائز اولاد...

قائد اعظم نیویارک اور موٹر وے۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

اپنا اپنا انداز ہوتا ہے کہنے کا ورنہ ستمبر کی گیارہ...

رنگ میں بھنگ ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی مرحوم

وفاقی وزیرِ سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے مطابق ایک اہم...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

چین نیوز

چین نے ہندوستان کیخلاف ڈیموں کے واٹر بم کی دھمکی دے دی

لداخ سیکٹر میں ہندوستان کو فوجی محاذ پر بدترین...

چین نے ہندوستان کیخلاف ہولناک مائیکرو ویو ہتھیار استعمال کیے

چین کی رینمن یونیورسٹی کے انٹرنشنل ریلیشن کے وائس...

ترکی نیوز

DEFENCE TIMES

Military Jobs and Defence News

GULF ASIA NEWS

News and facts from Gulf and Asia