آؤ ہم سب سچ لکھیں - اور دلیل سے بات کریں

پرواز میں کوتاہی ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمن فاروقی

وفاقی وزیرِ ہوا بازی نے اسمبلی اجلاس میں ایسی اینٹ سے اینٹ بجائی کہ پتہ نہیں چل رہا کہ کون سی اینٹ ڈگری ہے اور کون سی لائسنس؟

- Advertisement -
ہمارے ہاں تو طلسمِ ہوش ربا کا ایسا سلسلہ جاری ہے کہ ہر پاکستانی ایک کے بعد ایک تحیّر العقل واقعات کے رونما ہونے سے ادھ موا ہوگیا ہے اور یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ کیا بات اس کے حق میں ہے اور کیا اس کے خلاف؟
 
آج صبح اخبار اٹھایا تو دہشت گردی اور بجٹ کی یکساں کثیرالکالم خبروں کے درمیان یک کالم چھوٹی سی ایک خبر میں ذہن الجھ کر رہ گیا-ایندھن کے بحران اور چڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے دوران پاکستان کی قومی ائیر لائن اندرونِ ملک کرائے کی شرح گرا رہی ہے- جب تیل ملک میں ارزاں تھا تب تو قریب قریب دگنا کرایہ وصول کررہے تھے اوراب جب تیل مہنگا ہورہا ہے تو کرائے کم؟لیکن پی آئی اے کے پاس اس کے علاوہ چارہ ہی کیا ہے؟
 

وفاقی وزیرِ ہوا بازی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیسی اینٹ سے اینٹ بجادی – یہ تک پتہ نہیں چل رہا کہ کون سی اینٹ ڈگری ہے اور کون سی لائسنس؟ذرائع ابلاغ کا جائزہ لے لیجیے ہر گز یہ واضح نہیں ہو پائے گا کہ بات ڈگری کی ہورہی ہے یا لائسنس کی یا دونوں کی

البتہ یہ ضرور واضح ہے کہ وزیر موصوف کا دعوی کہ پاکستان میں ۸۶۰ ہوابازوں میں سے ۲۶۲ ہوابازوں کی اسناد جعلی ہیں پورے کرّۂ ارض کا چکر لگا کر پاکستان واپس پہنچ چکا ہے اور اب تحقیقات اگر چاہیں گی تو چارپائی سے اتر کر چپل پہننے کا سوچیں گی بشرطیکہ کوئی دل جلا پہلے سے ہاتھ ہی میں نہ تھام لے اور کاش تھام ہی لے
 
کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم زبان تھامنا سیکھ لیتے، کہنے سے پہلے سوچنا سیکھ لیتے، تیر چلانے سے پہلے تولنا سیکھ لیتے-لیکن افسوس یہ ہو نہ سکا-آپ خود وزیر ہوابازی ہیں، آپ کا ماتحت محکمہ ہے کیا ہی اچھا ہوتا آپ محکمہ جاتی کاروائی کا آغاز کرواتے، تحقیقات کرواتے ، ذمہ داران کا تعین کرواتے، ان کے خلاف کاروائی شروع کرتے پھر اسمبلی میں آکر فخر سے اعلان فرماتے کہ یہ کام کرکے آیا ہوں
 
اب تو دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ آپ نے ان ۲۶۲ ہوابازوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیونکہ محض معطل کرنا یا نوکری سے برخواست کرناتو کافی نہیں- کیا جعلسازی کے مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں؟ کیا سینکڑوں مسافروں کی جان خطرے میں ڈالنے کے مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں؟ آپ نے اعلان تو کردیا اور جو کریں گے سو مستقبل میں کریں گے- یہ بتا ئیے اب تک آپ نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
 
کرنا تو اب یہ پڑے گا کہ وزیر موصوف کو  ۲۶۲ ہوابازوں میں سے ایک ایک کو جعلساز ثابت کرنا ہوگا-یہ بتانا ہوگا کہ کس کی سند اور کس کا لائسنس جعلی ہے؟اس جعلی سند اور جعلی لائسنس کا ذمہ دار کون ہے؟محض وہ شخص جس کے پاس ہے یا وہ بھی جس نے بہم پہنچایا؟کیا سند اور لائسنس جعلی ہیں یا وہ اصلی ہیں اور ان کے لیے کی جانے والی سرکاری کاروائی جعلی ہے؟جس کے پاس اصلی سند یا لائسنس ہو لیکن اسے جاری کرنے کے لیے کی گئی کاروائی جعلی ہو تو کون ذمہ دار ٹہرایا جائے گا؟
 
لیکن پریشانی کی بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا سوالات کے جوابات ہمیں ایک ایسے فرد سے درکار ہیں جس کی اپنی اسمبلی کی رکنیت سپریم کورٹ سے جعلی سند کے الزامات کے باعث ایک طویل عرصے تک معطل رہی اور پھر ایک اینٹی کرپشن ٹرائل کورٹ نے اسے بری کردیا- یہ ہیں جناب ِ وزیر ہوابازی جن کی ۲۰۰۲ء کے اس معاملے سے جان سترہ سال بعد ۲۰۱۹ ء میں تب چھوٹی اور وہ بھی جب چوتھی سیاسی جماعت برسرِ اقتدار آئی جس میں موصوف تین پارٹیاں بدلنے کے بعدشامل ہوئے تھے-اگر ان ۲۶۲ کیسز میں سے ہر کیس سترہ سترہ سال چلا تو پی آئی اے کا کام تو تمام ہوجائے گا
 
لیکن کام تو وزیرِ ہوابازی صفائی سے کرگئے اور جلتی پہ تیل کا کام کیا بین الاقوامی ٹی وی چینل سی این این نے-کیا سنسنی پھیلائی ہے، کیا تمسخر اڑایا ہے-تحقیقات تو یہ بھی ہونی چاہئیں کہ وزیر موصوف کس کے لیے کام کررہے ہیں-ہر جانب سے خطرات میں گھری پاکستان کی معیشت اورماضی کی دنیا کی صفِ اوّل کی ہوائی کمپنیزمیں سے ایک پی آئی اے جوایک منجھدار میں اپنی ڈوبتی ہوئی نیّا بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہی تھی دونوں کے لیے ایک ضربِ کاری کا انتظام کردیا
 

وہ ناعاقبت اندیش جو پی آئی اے کی نجکاری کے بہانے پی آئی اے کے قیمتی اثاثے اونے پونے داموں فروخت کر کے اپنی اوقات کے مطابق گھٹیا معاوضے وصول کرنا چاہتے ہیں ان کی تو عید ہوگئی-

 
اِدھر ابھی ہم اس کالم کی آخری سطریں ہی لکھ رہے تھے کہ خبر آگئی یورپی یونین اوربرطانیہ نے چھ ماہ کے لیے پی آئی اے پر پابندی لگادی– متحدہ عرب امارات پہلے ہی اقدامات کر چکا ہے- یاد رہے کہ امارات کی دنیا کی بہترین ایمریٹس ائیر لائن کو جنم پی آئی اے ہی نے دیا تھا -لیکن یہاں تو اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
 
وزیر موصوف نے اپنے وزیر اعظم کے لیے بھی مشکلات کھڑی کردیں بشرطیکہ وزیراعظم کا اپنا ایجنڈا بھی وہی نہیں ہے جو وزیر موصوف کا ہے- یہ انسانی کمزوری ہے کہ جب وہ اپنے خوابوں کو یوں بکھرتا دیکھتا ہے تو ماضی کے آغوش میں پناہ لینے کی کوشش کرتا ہے-سابق صدر زرداری اورسابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی وارداتوں کے قصّے سننا سنانا حاضر حکمرانوں کا اتنا محبوب مشغلہ ہے کہ ہر صورت میں جاری رہتا ہے
 
دوسری جانب پائلیٹس کی ایسوسی ایشن اور ہر وہ عنصر جو پی آئی اے کی نجکاری میں رکاوٹ ہے اسے نیچا دکھانے کا جنون قومی ائیر لائن کو لے بیٹھا- پاکستان کے موجودہ بحرانوں پر نظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو حقیقت پسندی اور حکمت سے بھی نمٹا جاسکتا تھا
 
لیکن اسمبلی میں سنسنی پھیلانے اور دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے وزیر موصوف کی اپنی ایک لمحے کی چکا چوند مزید تاریکی پھیلا گئی

پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی

شرف جامی
پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی
سابق طالب علم راہنما ، میڈیا اینکر, سینئر کالم نگار , دانشور اور شاعر ڈاکٹر شکیل الرحمٰن فاروقی آج کل کراچی یونیورسٹی میں جنیاتی سائینسز کے پروفیسر ہیں۔ قلمی نام ش ۔ ر ۔ ف اور ان کے والد مرحوم کے نام جامی پر مشتمل شرف جامی ہے

تازہ ترین پوسٹ

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین