خبر اور تجزیہ

ملائشیا میں پناہ کی تلاش میں 24 روہنگیا مسلمان سمندر میں ڈوب گئے

برما میں ایک طرف سرکاری فوج کئی برسوں سے مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف بدھ مت کے شدت پسند مذہبی پیروکار ان کا سفاکانہ قتل عام کر رہے ہیں

- Advertisement -

ملائیشیا کے سرکاری ترجمان اور عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق پناہ کی تلاش میں سمندری سفر پر نکلے ہوئے 24 روہنگیا مسلمان تھائی لینڈ کے قریب ملائیشیا کے ایک تفریحی جزیرے کے قریب گہرے سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔

ملائشین خبر رساں نے بتایا ہے کہ ملائیشیا کے غوطہ زن ان 24 روہنگیا مسلمانوں کو تلاش کر رہے ہیں، جو اطلاعات کے مطابق ایک کشتی میں سوار ہو کر پناہ حاصل کرنے کیلیے ملائیشیا پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 25 مسافروں کی کشتی میں سے زندہ ساحل تک پہنچنے والے شخص کے مطابق وہ افراد  تیر کر تفریحی جزیرے لینگ کاوی پہنچنے کی کوشش میں لا پتہ ہو گئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ تمام افراد گہرے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

ملائیشیا کے کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز  25 کے قریب افراد کشتی سے کود کر تیر کر جزیرے کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن ان افراد میں سے صرف ایک شخص زندہ سلامت جزیرے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا۔

زندہ بچ جانے والے نور حسین نے ملائشین حکام اور پریس کے سامنے بتایا کہ وہ جزیرے کے ساحل تک پہنچنے کیلئے کشتی سے کودنے والے 25 افراد میں سے واحد شخص ہے جو جزیرے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے۔ ملائشین پولیس اس شخص سے لاپتہ افراد اور ان کے سمندی سفر کے بارے مزید تفتیش کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ کئی برس سے برما کے بدھ شدت پسندوں کے سفاک مظالم کے ستائے ہوئے روہنگیا مسلمان برما سے اپنے گھربار چھوڑ کر جانیں بچانے کیلیے دوسرے ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں دس لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہیں ۔

برما میں ایک طرف سرکاری فوج کئی برسوں سے ان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف بدھ مت کے شدت پسند مذہبی پیروکار ان کا سفاکانہ قتل عام کر رہے ہیں۔ دنیا بھر سے انسانی حقوق کے ادارے بھی اس حوالے سے برما کی حکومت پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ مذہبی شدت پسند  بدھوؤں کے ساتھ ساتھ برما کی سرکاری فوج بھی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔

برما میں گذشتہ دس برس سے مسلمانوں کی بستیوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ نوجوان اور کم عمر مسلمان خواتین بدھ پیروکاروں اور برمی فوج کی جنسی زیادتیوں کا نشانہ بن رہی ہیں۔ انتہائی افسوس ناک صورت حال اور عالمی برادری کیلئے سوالیہ نشان ہے کہ ایک طرف برمی حکومت ان الزامات سے صاف انکار کرتی ہے۔ لیکن دوسری طرف مسلمان آبادیوں کیخلاف اپنے ظلم و جبر چھپانے کیلئے عالمی اداروں کو تحقیقات کیلئے برما میں آنے کی اجازت تک نہیں دیتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

تازہ ترین